نفرت خود سے نہیں ہوتی

یہ بات سننے میں درست لگتی ہے —
لیکن پوری حقیقت کچھ زیادہ گہری ہے۔

“نفرت دوسروں پر کی جاتی ہے، خود پر نہیں —
مگر اس کا درد اور تباہی سب سے پہلے انسان کے اپنے اندر شروع ہوتی ہے۔”

اصل میں…
جب انسان کسی اور سے نفرت کرتا ہے،
تو اس کا زہر سب سے پہلے اس کے اپنے اندر پھیلتا ہے۔

ہم سامنے والے کو جلانا یا مٹانا چاہتے ہیں،
مگر آگ کو اپنے ہی دل میں پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔

سوچیں —
نفرت کرتے وقت بےچینی کس کو لاحق ہوتی ہے؟
غصہ کس کے اندر ابھرتا ہے؟
سکون کس کا چھن جاتا ہے؟

دوسرا شخص اکثر بےخبر ہوتا ہے،
مگر ہم خود ہی
نفرت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔

اس لیے حقیقت یہ ہے:

نفرت باہر ظاہر ہوتی ہے،
مگر اس کی جڑ دل کے اندر ہوتی ہے۔

اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ…
جو نفرت ہم دوسروں پر ڈالتے ہیں،
وہ ہماری اپنی ادھوری سمجھ،
عدم تحفظ، یا خود سے نارضگی کا عکس ہوتی ہے۔

لیکن ایک اور گہری بات —
جب ہم دوسروں کو اپنے ہی حصے کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں،
تو نفرت کی کوئی جگہ ہی نہیں رہتی۔

اور جب یہ سمجھ آ جاتی ہے،
تو نفرت اپنے آپ ختم ہونے لگتی ہے —
کیونکہ پھر واضح ہو جاتا ہے کہ
ہم کسی سے نفرت ہی نہیں کر سکتے۔

اور جہاں یہ شعور پیدا ہوتا ہے،
وہاں دل میں نفرت کی آگ پیدا ہی نہیں ہوتی۔

مگر یہ سمجھ اتنی آسان نہیں —
یہ صرف سوچنے سے نہیں ملتی،
بلکہ صحیح رہنمائی سے حاصل ہوتی ہے۔

اور اکثر…
یہ تجربہ تب ہی ممکن ہوتا ہے،
جب مُرشِد (صَدگُرو) کی مہربانی اور رہنمائی حاصل ہو۔