سنا تھا میں نے کہ راون بھی ایک بڑا عالم تھا۔
پھر بھی صدیوں سے اسے “شیاطین” کے روپ میں دیکھا جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے —
کیا ایک غلطی نے اسے یہ روپ دے دیا؟
جب اس بات پر باریک بینی سے غور کرتا ہوں تو اندر ایک گہرا سوال اٹھتا ہے۔
عالم بن کر نظر آنا الگ بات ہے،
مگر علم کی حالت میں ثابت قدم رہ کر جینا بالکل الگ بات ہے۔
اگر ایک بھول سے راون کا ایسا انجام ہوا،
تو میں کتنی بھولیں جان بوجھ کر جاتا ہوں —
پھر مجھے کیا کہا جائے گا؟
علم کی سچی حالت تو وہ ہے —
جہاں نہ کسی سے نفرت ہو،
نہ کسی سے یک طرفہ محبت۔
نہ دشمنی، نہ جانبداری۔
نہ پانے کی فکر، نہ کھونے کا خوف۔
نہ خاص خوشی، نہ خاص غم۔
لیکن میں؟
کبھی اپنا اور پرایا کرتا ہوں،
کبھی حسد اور کینہ پالتا ہوں،
کبھی غرور اور تکبر میں بھر جاتا ہوں۔
کبھی چھوٹا بڑا، امیر غریب کا فرق کرتا ہوں۔
کبھی دوسروں کی بربادی میں اپنی آبادی دیکھتا ہوں۔
کبھی اپنوں سے نرمی اور غیروں سے سختی سے پیش آتا ہوں۔
اور یہ سوچ صرف دل میں نہیں رکھتا —
بلکہ عمل میں بھی لے آتا ہوں۔
تو کیا میں واقعی عالم ہوں؟
یا صرف علم کا لفظ جانتا ہوں؟
شاید اسی کشمکش میں پکار نکلتی ہے —
کہ میرا مرشد مجھے بچا لے۔
تکبر سے، تفریق سے، جھوٹے مالک ہونے کے احساس سے۔
مجھے اس سہج حالت میں قائم کر دے،
جہاں علم صرف خیال نہ رہے،
بلکہ زندگی بن جائے۔
